حجاب المرأة المسلمة

مسلمان عورت کا حجاب

اللہ تعالیٰ نے مسلمان عورت پر پردہ کرنے، جسم کے چھپانے لائق حصوں اور پورے بدن کو اپنے علاقے میں رائج لباس کے ذریعے اجنبی مردوں سے چھپانے کو واجب کیا ہے، اس کے لیے اپنے شوہر اور محارم کے علاوہ کسی اور کے سامنے حجاب اتارنا جائز نہيں ہے،

اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {اے نبی! اپنی بیویوں سے اور اپنی صاحب زادیوں سے اور مسلمانوں کی عورتوں سے کہہ دو کہ وه اپنے اوپر اپنی چادریں لٹکا لیا کریں، اس سے بہت جلد ان کی شناخت ہو جایا کرے گی، پھر نہ ستائی جائیں گی اور اللہ تعالیٰ بخشنے والا مہربان ہے} [الاحزاب : 59]۔

اللہ تعالیٰ نے مسلمان عورت پر پردہ کرنے، جسم کے چھپانے لائق حصوں اور پورے بدن کو اپنے علاقے میں رائج لباس کے ذریعے اجنبی مردوں سے چھپانے کو واجب کیا ہے، اس کے لیے اپنے شوہر اور محارم کے علاوہ کسی اور کے سامنے حجاب اتارنا جائز نہيں ہے، یاد رہے کہ محارم سے مراد وہ لوگ ہیں جن سے کسی عورت کا ابدی طور پر شادی کرنا حرام ہو، محارم درج ذیل لوگ ہيں :«والد چاہے اوپر کا ہو، بیٹا چاہے نیچے کا ہو، چچا، مامو، بھائی، بھتیجا، بہن کی بیٹی، ماں کا شوہر جو ماں کے ساتھ تنہائی میں رہ چکا ہو، شوہر کا والد اگرچہ اوپر کا کیوں نہ ہو، شوہر کا بیٹا اگرچہ نیچے کا کیوں نہ ہو، بیٹی کا شوہر۔ رضاعت سے وہ سارے رشتے حرام ہو جاتے ہیں، جو نسب سے حرام ہوتے ہیں»۔

ایک مسلمان عورت اپنے لباس کے سلسلے میں درج ذیل اصول و ضوابط کا خیال رکھے گی :

1 اس کا پورا بدن ڈھکا ہوا ہو۔

2 لباس ایسا نہ ہو کہ اسے عورت زینت کے لیے پہنتی ہو۔

3 وہ اتنا شفاف نہ ہو کہ بدن جھلکے۔

4 لباس ڈھیلا ڈھالا ہو، اتنا تنگ نہ ہو کہ بدن کے

نشیب و فراز ظاہر ہوں۔

5 لباس معطر نہ ہو۔

6 رد کے لباس کے جیسا نہ ہو۔

7 لباس اس طرح کا نہ ہو جس طرح کا لباس غیر مسلم عورتیں

اپنی عبادتوں کے وقت اور تہواروں میں پہنتی ہیں۔

فلٹر
هاد
هاد